یہ کتاب "أبحاث حدیثیة ھادفة لتصحیح المسار العلمی" سلسلے کی دوسری اور تیسری کتاب ہے جو محمد عوامة کے قلم سے ہے۔ یہ کتاب دو اہم موضوعات پر مشتمل ہے۔
پہلا موضوع: التحذیر من الشوارد علی قول دون الرجوع إلی مصادرہ
اس حصے میں اس خطرناک علمی رویے سے خبردار کیا گیا ہے جس میں کوئی شخص کسی قول یا بات کو اس کے اصل مصادر اور حوالہ جات تک رجوع کیے بغیر بیان کرتا رہتا ہے۔ یہ علمی بے احتیاطی حدیث، فقہ اور دیگر اسلامی علوم میں بہت سی غلطیوں کا سبب بنتی ہے۔ مصنف نے اس مسئلے کو بے شمار عملی مثالوں سے واضح کیا ہے۔
دوسرا موضوع: کلمۃ فی التوقی من التحریف
اس حصے میں احادیث اور علمی نصوص میں تحریف یعنی غلط نقل کرنے اور الفاظ بدل دینے سے بچنے کے بارے میں ایک اہم علمی مقالہ شامل ہے۔
یہ دونوں موضوعات علمِ حدیث کی حفاظت اور علمی امانت داری کے اعتبار سے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔